سلطان محمود غزنویؒ کے مصاحبین اور دیگر خدمتگاروں نے ایک دِن بادشاہ سلامت کو شکوہ کیا کہ "جناب! آپ کے خدمتگار ایاز میں ایسی کیا خوبی پوشیدہ ہے کہ آپ اُسے ہمیشہ ہم سب سے بڑھ کے عزت و مرتبہ دیتے ہیں۔۔؟"
سلطان محمود غزنویؒ اُن کی بات سننے کے بعد بولے "تم لوگ کچھ دیر بعد دوبارہ آنا تو میں تمہیں عملاً بتاؤں گا کہ تم سب میں اور ایاز میں کیا فرق ہے، لیکن اِس کا ذکر ایاز سے مت کرنا۔!!"
کچھ لمحے بعد دوبارہ سے دربار سجا لیکن ابھی ایاز وہاں موجود نہیں تھا۔ بادشاہ سلامت نے اپنے سامنے ایک قیمتی ہیرہ رکھا ہوا تھا اور ساتھ میں ایک مضبوط اور وزنی ہتھوڑا۔
بادشاہ سلامت ایک ایک کر کے سبھی مصاحبین اور خدمتگاروں کو حکم دیتے کہ "آو اور اِس ہیرے کو ہتھوڑے کے وار سے ریزہ ریزہ کر دو۔۔!"
لیکن کوئی بھی یہ جرات نہ کرتا۔ اور ہر کسی کا یہی کہنا تھا کہ "بادشاہ سلامت! بلاوجہ چھوٹی سی بات پر اتنا قیمتی ہیرہ برباد کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے"
آخر جب کوئی بھی ہیرہ توڑنے پر آمادہ نہ ہوا تو اچانک باہر سے ایاز آتا دکھائی دیا، بادشاہ سلامت نے ایاز کو آواز دے کر اپنے پاس بلایا اور حکم دیا کہ "ایاز! ہتھوڑا پکڑو اور اِس ہیرے کو ریزہ ریزہ کر دو۔۔!"
بادشاہ سلامت کا حکم دینا تھا کہ ایاز نے بغیر کسی چوں چراں کے ہتھوڑا اُٹھایا اور قیمتی ہیرے کو ریزہ ریزہ کر دیا۔
سبھی حاضرين میں غصے کی ایک لہر دوڑ گئی وہ سب حیران ہو کر کبھی بادشاہ سلامت کی طرف دیکھتے اور کبھی ایاز کی اُس حرکت کو۔
تبھی بادشاہ سلامت نے غصے میں کہا، "ایاز! یہ تم نے کیا کیا، ہیرے کو ریزہ ریزہ کر دیا؟، تمہیں پتہ بھی ہے یہ کتنا قیمتی تھا۔۔؟"
دوستو! پتہ ہے ایاز نے کیا تاریخی جواب دیا۔۔
وہ بولا، "بادشاہ سلامت! آپ کا حکم میرے نزدیک اِس ہیرے سے کہیں قیمتی ہے۔۔"
جس کے بعد بادشاہ سلامت نے مسکرا کے حاضرین پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور ایاز کا کاندھا تھپکاتے ہوئے کہا، "ایاز کا یہی مخلصانہ اور وفادارانہ رویہ اُسے تم سب سے ممتاز کرتا ہے۔"
تو کيا ہم اللہ تعالی کے ليے اسی مخلصانہ اور وفادارانہ رویہ کو نہيں اپنا سکتے ؟
اس کا حکم بغير چوں چرا کيے مان ليں تو ہمارے بہت سے کام سنور جائيں۔
Home
»
»Unlabelled
» سلطان محمود غزنویؒ
سلطان محمود غزنویؒ
2:01 AM

0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں