Breaking News
Loading...
بدھ، 11 جون، 2014

ایک لڑکی بہت نک چڑی اور نخرے والی تھی

1:40 AM

بہت عرصہ پہلے ہمارے پڑوس میں ایک خاندان آباد تھا انکی ایک لڑکی بہت نک چڑی اور نخرے والی تھی اور دوسروں کو کمتر سمجھنا اور توہین کرنا اسکی عادت تھی۔ کچھ عرصہ بعد اسکی شادی بھی ہوگئی لیکن اسکی یہ عادت اسی طرح قائم رہی ۔ ہماری گلی میں ایک اور گھر تھا جن کے چار بچے تھے۔ ان کا ایک بچہ کسی وجہ سے توتلا بولتا تھا اور تھوڑا سا ہکلاتا بھی تھا۔ کسی بھی بات کے کرنے میں بہت دیر لگاتا تھا۔ وہ لڑکی جب بھی اپنے میکے آتی اس بچے کی نقل کر کے سب کو ہنساتی۔ اس بچے کے گھر والوں کو بہت دکھ ہوتا لیکن وہ خاموش رہتے ۔ شادی کے دو سال کے بعد اللہ نے اس کو بیٹا عطا کیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جب وہ بیٹا بڑا ہوا تو وہ ویسے ہی توتلا اور ہکلا کر بولتا جیسا کہ ان کے ہمسائیوں کا بچہ بولتا تھا۔ حالانکہ اس لڑکی کے سسرال اور میکہ دونوں میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا۔ نہ ہی بزرگوں اور نہ ہی اس سے پہلے والی نسلوں میں کہ بندہ کہے کہ ان کے اثرات اس بچے میں منتقل ہو گئے ہیں۔ بڑے بیٹے کے دو سال بعد ایک اور بیٹا اور اس کے تین سال بعد ایک بیٹی اللہ نے عطا کی۔ اس کے تینوں بچے دو بیٹے اور ایک بیٹی اسی طرح توتلے اور ہکلا کر بولتے ہیں۔ اب وہ بہت پچھتاتی اور روتی ہے کہ مجھے اس بچے کا مذاق اڑانے کی سزا ملی ہے لیکن اب پچھتانے سے کیا فائدہ ؟ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس بات کا خیال رکھیں کہ ہمارے مذاق سے کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔ کیونکہ اللہ کو اپنے تمام بندوں سے پیار ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ کے کسی بندے کا دل دکھانے پر ہم کسی پکڑ میں آجائیں ۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

 
Toggle Footer