آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے تھے؟
1 : ہے آج دماغ آسماں پر
لقد كان لكم فی رسول الله أسوةٌ حسنةٌ
ترجمہ: "در حقیقت تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے۔"
(الاحزاب : 21)
کہہ رہا ہے ایک اک بابِ حیاتِ مصطفےٰ
دیکھ انساں! سیرتِ انساں کا یہ معیار ہے
(اقبال صفی پوری)
اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وسلم (فداہ ابی و امی) کے اسوۂ حسنہ پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں، لیکن ان سے صاحبِ علم حضرات ہی استفادہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے کم پڑھے لکھے بھائی یا آج کل کے نوجوان اُن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے وہ اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔
یہ خواہش بہت دنوں سے تھی کہ اسوۂ حسنہ کا کوئی ایسا مجموعہ مرتب ہو جائے جس سے ہر کس و ناکس فائدہ اٹھا سکے اور اپنے امتی ہونے کا حق کسی نہ کسی حد تک ادا کر سکے۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے لئے مشکل یہ تھی کہ میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کس واقعہ کو نظر انداز کروں اور کس کو منتخب کروں۔ اس گلدستہ کا ہر پھول بے مثال، ہر ایک کی خوشبو میرا دامنِ دل کھینچ رہی تھی کہ"میں یہاں ہوں"۔ میں عجیب کشمکش میں مبتلا تھا۔ نہ چھوڑتے بن رہا تھا نہ پکڑتے بن رہا تھا۔
میرے اللہ نے میری مدد فرمائی۔ ذہن میں ایک خیال ابھرا " کیوں نہ سیرت کے ان واقعات کو مرتب کر دوں جو ہماری روزمرّہ کی زندگی سے براہ راست تعلق رکھتے ہوں۔" اس خیال کے آتے ہی میری آنکھیں جگمگا اٹھیں، دل خوشی سے لبریز ہو گیا، منہ مانگی مراد مل گئی۔ اسی بہانہ سے ایک بار پھر اپنے آقاﷺ کی خدمت کا موقع نصیب ہو گیا۔ دماغ آسمان پر اُڑنے لگا۔ قلم نے اپنا کام شروع کر دیا۔
اللہ کی مدد مجھ کم مایہ کے شاملِ حال رہی۔ یہ مختصر سا مجموعہ مرتب ہو گیا جو حجم میں چھوٹا ضرور ہے مگر ہے بہت قیمتی۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر عنوان ایک ہی صفحہ پر ختم ہو جاتا ہے۔ اور زبان آسان ہے۔
ناظرین سے گزارش ہے کہ اس کا بغور مطالعہ فرمائیں اور اپنی زندگیوں میں اسے سمونے کی کوشش کریں۔
اس مجموعہ کو مرتب کرنے میں کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مرتبین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
1۔ اسوۂ حسنہ از امام ابن قیم رحمہ اللہ، مطبوعہ مکتبہ الحسنات دہلی
2۔ سیرت النبیﷺ از شبلی نعمانی رحمہ اللہ، مطبوعہ دارالمصنفین، اعظم گڑھ
3۔ سیرت النبیﷺ از علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ، مطبوعہ دارالمصنفین، اعظم گڑھ
4۔ آدابِ زندگی از مولانا یوسف اصلاحی، مطبوعہ مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی
عرفان خلیلی (صفی پوری)
مرکزی درسگاہ اسلامی۔ رامپور
32: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معاف کر دیا کرتے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صفات حمیدہ میں سے ایک نمایاں صفت صبر کرنا اور معاف کر دینا بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ "آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی کسی سے اپنے ذاتی معاملے میں بدلہ نہیں لیا۔"
قریش نے آپ کو گالیاں دیں، مار ڈالنے کی دھمکی دی، راستہ میں کانٹے بچھائے، جسم مبارک پر نجاستیں ڈالیں، گلے میں پھندا ڈال کر دم گھونٹنے کی کوشش کی، آپﷺ کی شان میں طرح طرح کی گستاخیاں کیں، توبہ توبہ ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پاگل، جادوگر اور شاعر کہا مگر آپﷺ نے کبھی اُن کی اِن حرکتوں پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ معاف فرما دیا۔
اور تو اور طائف والوں نے آپﷺ کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا، یہاں تک کہ آپﷺ لہو لہان ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جوتے خون سے بھر گئے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ اگر تم چاہو تو طائف والوں کو اِن حرکتوں کے بدلہ میں پیس کر رکھ دوں۔ تو یاد ہے آپﷺ نے کیا جواب دیا تھا، آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے اور فرمایا تھا "اے اللہ ان کو معاف فرما دے، یہ مجھے پہچانتے نہیں ہیں ہوسکتا ہے کہ اِن کی اولاد اِسلام قبول کر لے۔"
بدھ، 11 جون، 2014
Next
This is the most recent post.
قدیم تر اشاعت
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)


0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں